سفر نگار شازیہ عندلیب

قسط نمبر ایک
موسم خزاں کی چھٹیوں میں ہم نے ناروے سے پاکستان کا سفر بزریعہ ترکش ائیر لائن کرنے کا ارادہ کیا۔ ہفتہ کی صبح میں اپنے ہمسفر کے ساتھ اوسلو سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے کے ارادے سے
امنگوں بھرا دل اور تحائف سے بھرا سامان لے کر ائیر پورٹ پہنچی۔اوسلو ائر پورٹ پر ہر جانب ہر رنگ و نسل کے مسافروں کی گہما گہمی تھی۔موسم خزاں کی چھٹیوں کی وجہ سے آج ائیرپورٹ پر معمول سے ذیادہ رش دکھائی دے رہا تھا۔اچانک میں ایک مسافر کو سامان لیے اور ہوائی چپل پہنے دیکھ کر حیران رہ گئی۔میں نے اسکا حلیہ دیکھا تو مزید حیران ہو گئی کہ اس لمبے تڑنگے شخص نے ماہ ستمبر کے خنک موسم میں ہوائی چپل کے ساتھ شارٹس پہن رکھی تھی۔جبکہ ہم لوگوں نے تو ٹھنڈ سے بچنے کے لیے ہلکے سویٹر بھی پہنے ہوئے تھے۔ناروے میں ماہ ستمبر کے اختتام تک عام طور سے ٹھنڈ شروع ہو جاتی ہے اور ساحل ویران اور غیر آباد ہونے لگتے ہیں جبکہ اس شخص کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے جناب ابھی ساحل سمندر سے ہی تشریف لا رہے ہیں ۔بہر حال ائیر پورٹ بھی بھانت بھانت کے لوگوں کی گزرگاہ ہے۔مجھے یاد ہے پچھلی مرتبہ جب میں لندن جا رہی تھی میں نے جہاز میں ایک یورپین خاتون کو ہاتھ میں سودا سلف لانے والی ٹوکری کے ہمراہ پائوں میں چپلیں پہنے دیکھا اور انگشت بد نداء رہ گئی کہ کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں ہواءی جہاز میں ہواءی چپل پہنے ایک مسافر خاتون۔
خیر ہم لوگ ترکش ائیر لاءن کے کاؤنٹر پہ سامان بک کروانے پہنچے ۔اس سے فارغ ہو کر چیک ان لاءونج کی جانب بڑھے۔اس سے فارغ ہو کر ویٹنگ روم کی جانب پہنچے۔وہاں ایک سرخ بالوں والا نارویجن سیکورٹی آفیسر چیکنگ کر رہا تھا۔بلکہ دو آفیسرز تھے۔کچھ مسافروں کو وہ ایک کمرے میں لے جاتے تھے۔جب میرے ہمسفر ضیاء کی باری آءی سیکورٹی انچارج اس سے پہلے ہنس کے بولا۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچھ کھسر پھسر کے انداز میں سر آگے جھکا کر رازدارانہ انداز میں بات کرنے لگا۔ اسکا یہ اسٹائل دیکھ کر تو میں چونک گئی ۔میں حیران یہ تماشہ دیکھ رہی تھی۔اک خیال آی اکہ شائید کوءی جاننے والا ہے ۔جب ضیاء فارغ ہو کر آۓ میں بے اختیار پوچھ بیٹھی کہ کیا کہہ رہا تھا وہ آخر سرگوشیوں میں۔ضیاء نے ہنس کر بتایاکہ کچھ نہیں وہ پوچھ رہا تھا پاکستان جا رہے ہو اپنی بیگم کے ساتھ وہاں بیگم کو سیر کروا ءو گے اور شاپنگ بھی۔میں کہا ہاں ۔پھر کہنے لگا پھر تو خوب پیسے لے کے جا رہے ہو گے۔کتنے ڈالر لے جا رہے ہو ؟ میں نے کہا
اوہ نہیں اب وہ زمانہ کہاں اب تو ہر جگہ اے ٹی ایم کارڈ چلتا ہے ۔میں تو بس کارڈ ہی لے جا رہا ہوں۔یہ سن کر وہ مایوس ہو گیا۔ میں بھی اسکی چالاکی پہ مسکراۓ بناء نہ رہ سکی ۔کیسے کیسے حربے آزماتے ہیں یہ سیکوورٹی والے بھی مسافروں سے باتیں اگلوانے کے۔واہ کیا کہنے۔اب سمجھ آیا کہ وہ سیکورٹی والا آخر بند کمرے میں مسافروں کو کیوں لے جا رہا تھا اور کن مسافروں کو لے جا رہا تھا۔
چیکنگ کے مرحلے سے فارغ ہو کر ہم لوگ لائونج میں ہواءے جہاز کے انتظار میں بیٹھ گۓ ۔ہمارے پہلو میں شیشے کی دیوار تھی جس کے پار ترکش ائیر لائن کا جہاز صاف نظر آ رہا تھا۔ ابھی صفاءی کا عملہ ہوائی جہاز کی صفائی میں مستعدی سے مصروف تھا۔ مجھے اچانک اپنی قومی ائیر لاءن پی آٰ کا ایک جہاز یاد آ گیا جس کی صفائی ایک پائلٹ کاک پٹ کی کھڑکی سے لوٹے کے ساتھ کر رہا تھا۔ بلکہ صفائی کیا دھلائی ہی کر رہا تھا۔ اب سننے میں آیا ہے کہ ہماری پیاری پی آئی اے اور قومی لائن اب ہماری نہیں رہی بلکہ اب وہ پرائیویٹ ہو گئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہےکہ اس نجکاری کے بعد اس میں کیا بہتری آتی ہے یا پہلے سے بھی بدتر حالات ہوتے ہیں
اس سفر نامہ میں میں اپنے ساتھ ہونے والے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں بھولے بھالے تارکین وطن کو کچھ رہنما اصول بتانے کی کوشش کروں گی کہ آپ کو اپنے پیارے وطن سابقہ جمہوریہ پاکستان اور موجودہ پاکستان میں وزٹ کے لیے کن باتوں کا خاص خیال رکھنا ہے ؟کون سی احتیاطیں ضروری ۔۔۔۔ ہیں۔رشتہ داروں کے ساتھ اور اجنبیوں کے ساتھ کیسے
پیش آئیں ان سے کیسا رویہ رکھیں۔پاکستان روانگی سے پہلے ایک ہدائیت نامہ میری نظر سے بھی گزرا تھا۔جس پہ عمل سے کافی افاقہ ہوا تا ہم مزید تجربات آپ کی نذر ہیں امید ہے آپ بہت سی مشکلوں سے بچ جائیں گے۔یقین نہ آے تو آزما لیں۔کیونکہ اب یہ والاپاکستان تو رہا نہیں ۔ جی ہاں بدل گیا ہے یہاں اب سب کچھ۔ سارے بھولے بھالے لوگ غائب ہو چکے ہیں۔ہر طرف چور اچکوں کا راج ہے۔
مجھے اس موقع پر ڈنمارک کی معروف شاعرہ صدف مرزا صاحبہ کی ایک آزاد نظم ٰآد آ رہی ہے جو کچھ یوں تھی ۔
کہاں پر بات کرنی ہے
کہاں پر مسکرانا ہے
کسے پلکوں پہ بٹھانا ہے
کہاں نظریں جھکانی ہیں
ہمی کو تو بتانا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

واہ شازیہ اندلیب صاحبہ
آپ بہترین سفر نامی لکھتی ہیں جو سفر کے دوران ہونے والے واقعات اور نظر آنے والے مناظر کی بھر پور عکاسی کرتا ہے
Ye to Apne safar nama likha hay some Apne sab kuch bataya k safar me kia kia hua .
V.Nice
اسلام و علیکم
آپ نے بڑا خوبصورت سفر نامی لکھا ہے اس میں آپ نے جو لکھا اس سے مجھے یہ سمجھ آیا کہ سفر میں کن ہدایات پر عمل کرنا ہوتا بہت اچھے طریقے سے بتایا کہ سفر کے دوران ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے
السلام علیکم مجھے اپ کے سفر نامے سے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ آپ نے اس میں ذکر کیا ہے اس کا پی ائی اے کا کے پی ائی اے جو ہے وہ پرائیویٹ ادارہ بن چکا ہے تو اب دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ ادارہ کیا کام کرتا ہے بہت اچھا سفرنامہ اپ نے لکھا ہے
السلام علیکم !بہت خوبصورت تحریر دوران سفر اپنے اردگرد ہونے والے چھوٹے بڑے واقعات کوانتہائ باریک بینی سے نوٹس کیاگیااور بیان کیاگیاآپ کی تحر یر سے “نیلے پانیوں کا دیس”سفرنامہ کی یادآگئ۔